باغ و بہار
معنی
١ - آراستہ، بارونق، شگفتہ، آباد۔ وہ دربار ان کا ہے باغ و بہار کہ محبوب ہیں جس کے نقش و نگار ( ١٩٧٣ء، اورینٹل کالج میگزین، ٢٢:١٩٢:٤٩ ) ٢ - شاداں و فرحاں، خوش و خرم۔ لطف سے تیرے معمورۂ عالم میں خوشی خلق سے تیرے ہے عشاق کا دل باغ و بہار ( ١٨٨٦ء، دیوان سخن، ٢٥ ) ٣ - شگفتہ مزاج، بذل سنج، لطیفہ گو، ہنسوڑ۔ "ایک تو حکیم صاحب ویسے ہی - باغ و بہار آدمی تھے ادھر مہاراج ملے قدردان۔" ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ٧ ) ١ - رونق، خرمی و شادابی، شگفتگی۔ واہ کیا خوب ہے مجلس میں تری باغ و بہار یہ حکایت جو سنے نقل گلستان کرے ( ١٨٥٨ء، کلیات تراب، ٢٥٦ )
اشتقاق
فارسی زبان میں دو اسما 'باغ' اور 'بہار' کے درمیان 'و' بطور حرف عطف آنے سے مرکب عطفی 'باغ و بہار' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٩٤ء میں بیدار کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - شگفتہ مزاج، بذل سنج، لطیفہ گو، ہنسوڑ۔ "ایک تو حکیم صاحب ویسے ہی - باغ و بہار آدمی تھے ادھر مہاراج ملے قدردان۔" ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ٧ )